Friday, September 18, 2026
HomeBlogگلگت بلتستان میں سوشل میڈیا کا شور اور معاشرے کی خاموش ہوتی...

گلگت بلتستان میں سوشل میڈیا کا شور اور معاشرے کی خاموش ہوتی آواز

رائے و تجزیہ

گلگت بلتستان میں سوشل میڈیا کا شور اور معاشرے کی خاموش ہوتی آواز

سوشل میڈیا، صحافت، سیاست، بیوروکریسی، ماحولیات اور نوجوان نسل کے بدلتے رویوں پر ایک سنجیدہ نظر

س
سمیع جان کالم / رائے

گلگت بلتستان صرف بلند پہاڑوں، خوبصورت وادیوں، دریاؤں اور سیاحتی مقامات کا نام نہیں۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں مختلف زبانیں، ثقافتیں، مذاہب، مسالک اور صدیوں پر محیط روایات ایک دوسرے کے ساتھ رہتی آئی ہیں۔ ہماری اصل طاقت یہی تنوع، برداشت اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا تھا۔

لیکن آج ہمیں ایک ایسے مسئلے کا سامنا ہے جس پر سنجیدگی سے بات کرنے کی ضرورت ہے: سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال۔

01

سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا شور

آج تقریباً ہر گاؤں، ہر ضلع اور ہر علاقے کے نام سے فیس بک پیجز، نیوز پیجز اور ٹک ٹاک اکاؤنٹس موجود ہیں۔ سوشل میڈیا پر آواز اٹھانا ہر شہری کا حق ہے، اور ہر شخص کو اپنی رائے دینے کی آزادی ہونی چاہیے۔ مسئلہ آزادیِ اظہار نہیں، مسئلہ ذمہ داری کے بغیر اظہار ہے۔

بعض صفحات اور اکاؤنٹس خبر اور افواہ کے درمیان فرق ختم کر دیتے ہیں۔ تصدیق کیے بغیر خبر چلانا، کسی واقعے کو فرقہ وارانہ رنگ دینا، ایک ضلع کو دوسرے ضلع سے برتر ثابت کرنا، ایک گاؤں کو دوسرے گاؤں کے مقابل کھڑا کرنا اور مذہب یا مسلک کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا معاشرے کے لیے انتہائی خطرناک رجحان ہے۔

سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض اوقات ایک ہی شخص صبح کو مذہبی رہنما بن جاتا ہے، دوپہر کو سیاسی تجزیہ کار، شام کو ماحولیاتی کارکن اور رات کو صحافی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ایک انسان کئی موضوعات پر بات کیوں کرتا ہے؛ مسئلہ یہ ہے کہ کیا وہ ہر موضوع پر علم، تحقیق اور ذمہ داری کے ساتھ بات کر رہا ہے؟

سوشل میڈیا پر فالوورز کی تعداد صحافت کی ڈگری نہیں ہوتی، وائرل ویڈیو تحقیق کا متبادل نہیں ہوتی اور کسی سیاسی یا سرکاری شخصیت سے تعلق کسی خبر کی سچائی کی ضمانت نہیں ہوتا۔

02

اصل نقصان کہاں ہوتا ہے؟

جب غیر مصدقہ خبر ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے تو بعد میں اس کی تردید چند سو لوگوں تک بھی نہیں پہنچتی۔

خاص طور پر گلگت بلتستان جیسے حساس اور متنوع معاشرے میں ایک غلط خبر صرف ایک پوسٹ نہیں رہتی۔ وہ خاندانوں، گاؤں، اضلاع اور مسالک کے درمیان بداعتمادی پیدا کر سکتی ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ فرقہ واریت صرف مذہبی تقریروں سے نہیں پھیلتی؛ کبھی کبھی ایک غیر ذمہ دار فیس بک پوسٹ، ایک ٹک ٹاک ویڈیو یا ایک اشتعال انگیز عنوان بھی وہی کام کر دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حساس واقعات پر فوری طور پر فرقہ وارانہ نتیجہ نکالنے کے بجائے تحقیق اور تصدیق ضروری ہے۔

03

سیاست اور سوشل میڈیا کا نیا تعلق

ایک اور تشویشناک پہلو سیاست اور سوشل میڈیا کا تعلق ہے۔

جب سیاسی جماعتیں اپنے نظریاتی کارکن، نچلی سطح کی سیاسی تربیت اور حقیقی عوامی رابطے کمزور کر دیتی ہیں تو خلا پیدا ہوتا ہے۔ اس خلا میں ایسے لوگ سامنے آتے ہیں جو کبھی سیاسی کارکن، کبھی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور کبھی غیر رسمی ترجمان بن کر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ لوگ ہر طرف تعلقات رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج کسی سیاسی جماعت کے قریب، کل کسی سرکاری افسر کے ساتھ، پرسوں کسی مذہبی حلقے کے قریب اور اگلے دن کسی سماجی مسئلے کے خود ساختہ ترجمان۔

اس رویے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اصول پیچھے چلے جاتے ہیں اور تعلقات آگے آ جاتے ہیں۔

ایک صحت مند معاشرے میں صحافی کو سوال پوچھنے کے لیے کسی افسر کی اجازت نہیں چاہیے، سیاسی کارکن کو اپنی جماعت سے اختلاف کرنے سے ڈرنا نہیں چاہیے اور سماجی کارکن کو اپنی آواز بلند کرنے کے لیے کسی بااثر شخص کا سہارا نہیں چاہیے۔

04

بیوروکریسی بھی سوال سے باہر نہیں

یہ تنقید صرف سوشل میڈیا والوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔

گلگت بلتستان میں بعض اوقات انتظامیہ کی توجہ ایسے چھوٹے دکانداروں، فروٹ اسٹالز، ریڑھی والوں یا معمولی سائن بورڈز پر زیادہ نظر آتی ہے، جبکہ بڑے تعمیراتی منصوبوں، سڑکوں پر تجاوزات، ماحولیاتی نقصان اور بااثر لوگوں کی غیر قانونی سرگرمیوں پر سوال کم اٹھتے ہیں۔

قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔

اگر ایک غریب شخص کا چھوٹا سا اسٹال فوراً نظر آتا ہے تو بڑے منصوبے کی ماحولیاتی خلاف ورزی بھی اتنی ہی واضح نظر آنی چاہیے۔

گلگت بلتستان کا ماحول کوئی معمولی چیز نہیں۔ صنعتی سرگرمیوں، ٹرانسپورٹ، جنگلات کی کٹائی اور فضلے جیسے مسائل خطے کے ماحول کے لیے اہم چیلنج ہیں۔

لہٰذا ماحولیات صرف عالمی یومِ ماحولیات پر درخت لگانے کی تصویر کا نام نہیں۔ اصل ماحولیاتی شعور اس وقت نظر آتا ہے جب ہم غلط تعمیر، کچرے، پانی کی آلودگی، دریا کے کنارے تجاوزات اور غیر ذمہ دارانہ ترقی پر بھی سوال اٹھائیں۔

05

نئے افسر کی آمد اور پرانے مسائل

ایک عجیب روایت بھی بنتی جا رہی ہے۔

جب کوئی نیا افسر تعینات ہوتا ہے تو بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور نیوز پلیٹ فارم فوراً استقبال، مبارک باد اور تعریفوں سے بھر جاتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے:

  • نئے افسر کے استقبال سے زیادہ اہم عوام کے مسائل کیوں نہیں؟
  • کیا کسی افسر کے دفتر میں جا کر تصویر بنوانا صحافت ہے؟
  • کیا کسی افسر کی تعریف کرنا عوامی خدمت ہے؟
  • کیا کسی سیاسی شخصیت کے قریب بیٹھنا عوامی نمائندگی ہے؟

اصل صحافت کے سوالات

اصل صحافت تو یہ ہے کہ عوام پوچھیں:

بجلی کب آئے گی؟
پانی کا مسئلہ کب حل ہوگا؟
روزگار کے مواقع کہاں ہیں؟
سڑکیں کیوں خراب ہیں؟
تعلیم کا معیار کیا ہے؟
صحت کی سہولیات کہاں ہیں؟
ماحول کون تباہ کر رہا ہے؟
ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کتنی ہے؟
اور عام شہری کو انصاف کب ملے گا؟

یہ وہ سوال ہیں جن سے معاشرہ بنتا ہے۔

06

نوجوان نسل کے لیے خطرہ

سب سے زیادہ فکر مجھے نوجوان نسل کی ہے۔

آج کا نوجوان کتاب سے زیادہ موبائل اسکرین دیکھتا ہے۔ اگر اس اسکرین پر اسے تحقیق کے بجائے افواہ، دلیل کے بجائے گالی، سیاست کے بجائے شخصیت پرستی اور مذہب کے بجائے نفرت ملے گی تو ہم آنے والی نسل کو کیا دے رہے ہیں؟

ہمیں ایسے نوجوان نہیں چاہئیں جو ہر وائرل ویڈیو کو سچ سمجھیں۔

ہمیں ایسے نوجوان چاہئیں جو پوچھیں:

01

اس خبر کا ذریعہ کیا ہے؟

02

اس دعوے کا ثبوت کہاں ہے؟

03

کیا دوسرے فریق کا موقف بھی موجود ہے؟

04

کیا یہ خبر مجھے معلومات دے رہی ہے یا مجھ میں نفرت پیدا کر رہی ہے؟

یہ سوال ایک باشعور معاشرے کی بنیاد ہیں۔

07

ہمیں کس چیز کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے؟

ہمیں ہر اس شخص کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو خاموشی سے اپنے معاشرے کے لیے کام کر رہا ہے۔

📚 استاد

جو بچوں کو بہتر تعلیم دے رہا ہے۔

🩺 ڈاکٹر

جو دور دراز علاقے میں مریضوں کا علاج کر رہا ہے۔

🧹 نوجوان

جو اپنے گاؤں میں صفائی کی مہم چلا رہا ہے۔

🌳 ماحولیاتی کارکن

جو درخت لگا رہا ہے اور ماحول کے لیے کام کر رہا ہے۔

📰 صحافی

جو دباؤ کے باوجود تصدیق شدہ خبر دے رہا ہے۔

🗣 سیاسی کارکن

جو اپنی جماعت کے ساتھ ساتھ اپنے ضمیر کی بھی سنتا ہے۔

🤝 باشعور شہری

جو فرقہ واریت کے بجائے اتحاد کی بات کرتا ہے۔

یہ لوگ شاید ٹک ٹاک پر سب سے زیادہ وائرل نہ ہوں، لیکن معاشرے کی اصل بنیاد یہی لوگ ہیں۔

08

ہمیں نفرت کے بجائے معیار بنانا ہوگا

گلگت بلتستان کو ایسے سوشل میڈیا کی ضرورت ہے جو لوگوں کو تقسیم نہ کرے بلکہ جوڑے۔

ایسی صحافت کی ضرورت ہے جو طاقتور سے سوال کرے اور کمزور کی آواز بنے۔

ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو صرف انتخابات کے دن عوام کو یاد نہ کرے۔

ایسی بیوروکریسی کی ضرورت ہے جو عام آدمی کے ساتھ قانون نافذ کرے تو بااثر آدمی کے ساتھ بھی وہی قانون نافذ کرے۔

اور ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو سوشل میڈیا کے صارف نہیں بلکہ باشعور شہری بنیں۔

ہمیں کسی مخصوص شخص، گاؤں، ضلع، مسلک یا سیاسی جماعت کو دشمن بنانے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں صرف غلط رویے کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔

کیونکہ گلگت بلتستان کا مستقبل چند وائرل ویڈیوز، چند فیس بک پیجز یا چند خود ساختہ دانشوروں کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے۔ یہ مستقبل ان لوگوں کا ہونا چاہیے جو علم رکھتے ہیں، سوال کرتے ہیں، تحقیق کرتے ہیں، اختلاف برداشت کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر اپنے معاشرے سے محبت کرتے ہیں۔

ہمیں شور پیدا کرنے والے کرداروں سے زیادہ کردار بنانے والے لوگوں کی ضرورت ہے۔

گلگت بلتستان کو ایسے ہیروز کی ضرورت ہے جو کیمرے کے سامنے نہیں بلکہ معاشرے کے اندر کام کرتے ہیں۔

اور شاید آج ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہی ہے کہ ہم شور کو مقبول بنانے کے بجائے سچ، علم، خدمت اور کردار کو مقبول بنائیں۔

س
سمیع جان

کالم نگار / رائے

Hunza Times
Hunza Timeshttps:
The author is a dedicated journalist with a deep focus on Gilgit-Baltistan, particularly Hunza. Passionate about amplifying the voices of mountain communities on a global stage, the author strives to bring authentic and truthful news about the region. Through active social engagement, the author works to boost arts, culture, and heritage, ensuring that the rich traditions of Hunza are preserved and celebrated. Beyond journalism, the author is also a skilled needle and thread artist and an artisan from Gilgit-Baltistan. With a firm commitment to promoting, preserving, and reviving the cultural heritage of the region, the author uses artistic expression as a means of storytelling and cultural diplomacy. By showcasing the arts, culture, and heritage of Hunza and Gilgit-Baltistan to the world, the author aims to reshape the global perception of the region and present its true essence. For the author, arts, culture, and heritage are more than just traditions—they are a passport to the world, a universal language that fosters understanding and builds bridges between nations. In an era where conflicts and divisions are prevalent, the author firmly believes that culture has the power to bring people together. Through artistic and cultural exchange, the author envisions a world where differences are celebrated, and humanity finds common ground in shared traditions and creativity.
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments